کائنات کا بنانے والا اور غیر متناہی علتوں کا بطلان
یہ صفحات علم الکلام کی اساس ہیں۔ امام سعد الدین تفتازانیؒ نے نہایت اختصار مگر جامعیت کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ کائنات چونکہ حادث ہے اس لیے اس کا ایک صانع ضروری ہے، اور وہ صانع کوئی ممکن چیز نہیں ہو سکتی ورنہ لامتناہی زنجیر (تسلسل) لازم آئے گی۔ اور تسلسل عقلاً باطل ہے جس کے رد کے لیے سب سے قوی دلیل «برہانِ تطبیق» قائم فرمائی ہے۔
۳ بنیادی ستون: قدیم اصطلاح، جدید مفہوم اور روزمرہ زندگی کی مثالیں
طلبہ اور نئے سیکھنے والوں کے لیے دقیق کلامی مباحث کا سب سے آسان عملی فہم
۱. اثباتِ واجب الوجود
کائنات کی ہر چیز "ممکن" (محتاج) ہے، اور خود بخود کسی چیز کا وجود میں آنا ناممکن ہے۔ پس اس کا بنانے والا ایک ایسا سورس ہونا چاہیے جو خود کسی کا محتاج نہ ہو۔
آپ کا موبائل چارجر سے، چارجر ایکسٹینشن سے، ایکسٹینشن دیوار کے ساکٹ سے جڑی ہے۔ اگر پیچھے کوئی پاور ہاؤس (بجلی پیدا کرنے والا خود مختار منبع) نہ ہو تو موبائل کبھی چارج نہیں ہوگا۔ کائنات کی ہر شے چارجر کی طرح اثر ادھار لے رہی ہے، لہٰذا ایک اصل پاور سورس (واجب الوجود) لازمی ہے!
۲. بطلانِ تسلسل
اگر ہر سبب کے پیچھے دوسرا سبب ہو اور یہ زنجیر ماضی میں کبھی نہ رکے، تو کائنات کبھی وجود میں ہی نہیں آ سکتی تھی۔
ایک کیشئر کہے: "میں پیسے تب دوں گا جب منیجر ۱ دستخط کرے"، منیجر ۱ کہے: "جب منیجر ۲ کرے"، اور یہ شرط کبھی نہ رکے! کیا آپ کو کبھی رقم ملے گی؟ کبھی نہیں! جب تک کوئی ایسی حتمی اتھارٹی نہ آئے جس کے دستخط کسی اور کی اجازت کے محتاج نہ ہوں۔ چونکہ کائنات اس وقت موجود ہے، اس کا مطلب آخری اتھارٹی موجود ہے!
۳. برہانِ تطبیق
معلولات کے دو سلسلوں کا ایک دوسرے کے سامنے تقابل کر کے لامتناہی زنجیر کے عقلی و ریاضیاتی تضاد کو ثابت کرنا۔
الماری الف میں تمام جلدیں ہیں اور الماری ب میں سے پہلی جلد غائب ہے۔ اب دونوں الماریوں کی کتابوں کا ایک کے بدلے ایک موازنہ کریں۔ اگر دونوں لامتناہی برابر رہیں، تو ایک کم ہونے کے باوجود دوسری کے برابر کیسے ہو سکتی ہے؟ عقل کہتی ہے: ناقص کبھی زائد کے برابر نہیں ہو سکتا، اور سلسلہ لازماً ختم ہوگا!
اہم کلامی و اصطلاحی مفاہیم
عبارتِ شرح العقائد مع سلیس اردو ترجمہ و تشریح
ہر صفحے کی اصل عربی عبارت، درسی حواشی، اور اس کے بالمقابل عام فہم اردو مفہوم
[المُحْدِثُ للعالمِ هو الله تعالى]
جہان کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے۔
«ولما ثبت أن العالم محدث، ومعلوم أن المحدث لا بد له من محدث، ضرورة امتناع ترجح أحد طرفي الممكن من غير مرجح، ثبت أن له محدثاً، [والمحدث للعالم هو الله تعالى]، أي الذات الواجب الوجود * الذي يكون وجوده من ذاته، ولا يحتاج إلى شيء أصلاً؛ إذ لو كان جائز الوجود لكان من جملة العالم، فلم يصلح محدثاً للعالم ومبدأ له، ...»
اور جب یہ بات (پچھلی بحثوں میں) ثابت ہو چکی کہ سارا عالم "مُحدَث" (نوپیدا، عدم کے بعد وجود میں آنے والا) ہے، اور یہ بات ہر عقل سلیم کے نزدیک معلوم و بدیہی ہے کہ ہر محدَث کے لیے ایک "مُحدِث" (پیدا کرنے والا) ناگزیر ہے—کیونکہ ممکن کے دونوں پہلوؤں (وجود یا عدم) میں سے کسی ایک کا بغیر کسی ترجیح دینے والے کے خود بخود غالب آ جانا بالبدیہہ محال ہے—تو یہ قطعی طور پر ثابت ہو گیا کہ اس کائنات کا ایک پیدا کرنے والا ہے۔
[اور جہان کا پیدا فرمانے والا اللہ تعالیٰ ہے]، یعنی وہ ذات جو واجب الوجود ہے، جس کا وجود خود اس کی اپنی ذات سے ہے، اور وہ اپنے ہونے یا باقی رہنے میں کسی بھی شے کی ذرہ برابر محتاج نہیں۔ کیونکہ اگر بالفرض وہ ذات ممکن الوجود (جائز الوجود) ہوتی تو وہ خود اسی عالم کا ایک فرد بن جاتی، اور جب وہ خود کائنات کا حصہ ہوتی تو وہ پوری کائنات کی پیدا کرنے والی اور اس کا اصل مبدأ و سرچشمہ بننے کی ہرگز اہل نہ ہوتی۔
«مع أن العالم اسم لجميع ما يصلح علماً على وجود مبدأ له، وقريب من هذا ما يقال: إن مبدأ الممكنات بأسرها * لا بد أن يكون واجبا؛ إذ لو كان ممكنا لكان من جملة الممكنات، فلم يكن مبدأ لها، وقد يتوهم أن هذا دليل على وجود الصانع من غير افتقار إلى إبطال التسلسل وليس كذلك، بل هو إشارة إلى أحد أدلة بطلان التسلسل، وهو أنه لو ترتب سلسلة الممكنات لا إلى نهاية لاحتاجت إلى علة، وهي لا يجوز أن تكون نفسها ولا بعضها؛ لاستحالة كون الشيء علة لنفسه ولعلله، ....»
علاوہ ازیں، لفظ "عالم" تو وضع ہی ہر اس موجود کے لیے ہوا ہے جو اپنے بنانے والے کے وجود پر علامت اور نشانی بن سکے۔
اور اسی دلیل کے مشابہ وہ استدلال ہے جو متکلمین کہتے ہیں: "تمام ممکنات کا سرچشمہ لازماً واجب الوجود ہی ہوگا، کیونکہ اگر وہ خود ممکن ہوتا تو وہ ان ممکنات ہی کا ایک فرد ہوتا، پس وہ تمام ممکنات کا مبدأ نہ بن سکتا"۔
شبهہ اور تفتازانیؒ کا رد: اور بسا اوقات کسی کو یہ دھوکا یا وہم ہو سکتا ہے کہ یہ دلیل تسلسل (لامتناہی زنجیر) کو باطل کیے بغیر ہی وجودِ صانع کو تن تنہا ثابت کر دیتی ہے، حالانکہ حقیقت ایسی نہیں ہے! بلکہ یہ استدلال دراصل بطلانِ تسلسل کے دلائل میں سے ایک دلیل کی طرف ہی اشارہ ہے؛ اور وہ دلیل یہ ہے کہ: اگر ممکنات کی زنجیر ماضی کی جانب لامتناہی طور پر مرتب ہو جائے تو یہ پورا کا پورا لامتناہی مجموعہ اپنے وجود کے لیے کسی علت کا محتاج ہوگا۔ اور وہ علت نہ تو یہ پورا مجموعہ خود ہو سکتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی جزو بن سکتا ہے؛ کیونکہ کسی بھی شے کا خود اپنی علت بننا، یا اپنی ہی علتوں کی علت بننا عقلاً محال ہے۔
«بل خارجا عنها فيكون واجباً فتنقطع السلسلة، ومن مشهور الأدلة برهان التطبيق، وهو أن نفرض من المعلول الأخير إلى غير النهاية جملة، ومما قبله بواحد مثلا * إلى غير النهاية جملة أخرى، ثم نطبق الجملتين، بأن نجعل الأول من الجملة الأولى بإزاء الأول من الجملة الثانية، والثاني بالثاني، وهلم جراً، فإن كان بإزاء كل واحد من الأولى واحد من الثانية، كان الناقص كالزائد وهو محال، وإن لم يكن فقد وجد في الأولى ما لا يوجد بإزائه شيء في الثانية، فتنقطع الثانية وتتناهى، ويلزم منه تناهي الأولى؛ لأنها لا تزيد على الثانية إلا بقدر متناه، والزائد على المتناهي بقدر متناه يكون متناهيا بالضرورة، وهذا التطبيق إنما يمكن فيما دخل تحت الوجود ...»
بلکہ وہ علت لازماً ممکنات کی اس پوری زنجیر سے خارج ہوگی، لہٰذا وہ "واجب الوجود" ہوگی اور یوں یہ لامتناہی زنجیر کٹ جائے گی۔
برہانِ تطبیق کی صورت: اور ابطالِ تسلسل کے مشہور ترین دلائل میں سے "برہانِ تطبیق" (آمنے سامنے جوڑنے کی دلیل) ہے۔ اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ: ہم حال میں موجود آخری معلول سے لے کر ماضی کی غیر متناہی جانب تک کے معلولات کا ایک مجموعہ فرض کریں (جسے الجملة الأولى کہا جائے گا)، اور اس سے ایک درجہ پہلے والے معلول سے لے کر ماضی کی غیر متناہی جانب تک دوسرا مجموعہ فرض کریں (جسے الجملة الثانية کہا جائے گا)۔
پھر ہم دونوں سلسلوں کے درمیان تطبیق دیں (یعنی ایک کے مقابلے میں دوسرا رکھیں)، اس طرح کہ جملہ اولیٰ کے پہلے فرد کے سامنے جملہ ثانیہ کا پہلا فرد رکھیں، دوسرے کے سامنے دوسرا، اور اسی ترتیب سے پیچھے چلتے جائیں۔ اب عقل کے سامنے صرف دو ہی راہیں ہیں:
- پہلی صورت: اگر جملہ اولیٰ کے ہر ہر فرد کے مقابلے میں جملہ ثانیہ کا ایک فرد موجود رہے، تو ناقص (دوسرا سلسلہ جس میں سے ایک کم کیا گیا تھا) بالکل زائد (پہلے پورے سلسلے) کے برابر ہو جائے گا، اور ناقص کا زائد کے برابر ہونا کھلا تضاد اور عقلاً قطعی محال ہے۔
- دوسری صورت: اور اگر ہر ایک کے مقابلے میں دوسرا نہ رہے، تو جملہ اولیٰ میں کچھ ایسے افراد بچ رہیں گے جن کے بالمقابل جملہ ثانیہ میں کچھ نہ ہوگا، پس جملہ ثانیہ وہیں ختم ہو کر متناہی (محدود) ہو جائے گا۔ اور جب جملہ ثانیہ متناہی ہو گیا تو جملہ اولیٰ کا متناہی ہونا بھی لازمی ٹھہرا؛ کیونکہ جملہ اولیٰ دوسرے سلسلے سے صرف ایک متناہی مقدار (ایک معلول) ہی زائد ہے، اور متناہی میں متناہی کا اضافہ بھی بالضرورہ متناہی ہی ہوتا ہے۔
اور یہ تطبیق صرف انہی امور میں ممکن ہے جو عالمِ خارج میں حقیقت کے ساتھ داخلِ وجود ہوں۔
«دون ما هو وهمي محض، فإنه ينقطع بانقطاع الوهم، فلا يرد النقض بمراتب العدد بأن تطبق جملتان إحداهما من الواحد لا إلى نهاية، والثانية من الاثنين لا إلى نهاية، ولا بمعلومات الله تعالى ومقدوراته، فإن الأولى أكثر من الثانية، مع لا تناهيهما؛ وذلك لأن معنى لا تناهي الأعداد والمعلومات والمقدورات: أنها لا تنتهي إلى حد لا يتصور فوقه آخر، لا بمعنى: أن ما لا نهاية له يدخل في الوجود، فإنه محال، [الواحد يعني] أن صانع العالم واحد، ولا يمكن أن يصدق مفهوم واجب الوجود، إلا على ذات واحدة.»
نہ کہ ان چیزوں میں جو محض وہمی اور فرضی ہوں، کیونکہ وہمی چیزیں تو وہم کے رکنے سے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔
لہٰذا برہانِ تطبیق پر اعداد کی گنتی کا نقض (اعتراض) وارد نہیں ہوگا کہ اگر دو سلسلے فرض کیے جائیں: ایک عدد ۱ سے لامتناہی اور دوسرا عدد ۲ سے لامتناہی؛ اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کی معلومات اور مقدورات کا نقض وارد ہوگا، کہ معلومات مقدورات سے زائد ہیں حالانکہ دونوں لامتناہی ہیں؛ کیونکہ اعداد، معلومات اور مقدورات کے لامتناہی ہونے کا معنی یہ ہے کہ وہ کسی ایسی حد پر جا کر ختم نہیں ہوتے جس سے آگے کوئی اور نہ سوچا جا سکے (عدم الوقوف عند حد)، نہ یہ کہ کوئی غیر متناہی مجموعہ خارج میں بیک وقت وجود پذیر ہو چکا ہو، کیونکہ یہ تو عقلاً محال ہے۔
[اور صانع کا ایک ہونا، یعنی] جہان کا پیدا کرنے والا ایک ہے، اور "واجب الوجود" کا حقیقی مفہوم سوائے ایک ہی یکتا ذات کے کسی اور پر صادق آ ہی نہیں سکتا۔
شجرۂ استدلالِ کلامی (Logical Deduction Architecture)
عالم کے حادث ہونے سے لے کر صانعِ واجب الوجود کے اثبات تک کا منطقی سفر
العالم متغیر، وكل متغیر حادث
دنیا کی ہر چیز تغیر و تبدل کی زد میں ہے، اور جو بھی متغیر ہو وہ عدم کے بعد وجود میں آتا ہے، لہٰذا کائنات حادث (محدث) ہے۔
كل حادث لا بد له من محدث
ممکن کے دو پہلو ہیں: وجود اور عدم۔ دونوں عقل میں برابر ہیں۔ عدم سے وجود کی طرف پلڑا کسی جھکانے والے (مرجح) کے بغیر نہیں جھک سکتا۔
محدث خود "ممکن الوجود" ہو
اگر محدث ممکن ہوگا تو وہ خود کائنات کا فرد ہوگا، لہٰذا اسے اپنے وجود کے لیے کسی اور علت کی ضرورت ہوگی۔
- دور (Vicious Circle): الف، ب کا سبب بنے اور ب، الف کا۔ (محال بالبدیہہ)
- تسلسل (Infinite Regress): علتوں کی زنجیر پیچھے لامتناہی چلے۔ (برہانِ تطبیق سے باطل)
محدث "واجب الوجود لذاتہ" ہو
جب علت ممکنات سے خارج ہوگی تو وہ بالضرورہ واجب الوجود ہوگی، جس کا وجود ذاتی ہوگا، وہ غیر کا محتاج نہیں ہو سکتا۔
صانع العالم واجب الوجود وهو الله سبحانه وتعالى، وسلسلہ یہیں منقطع ہو جاتا ہے!
علامہ تفتازانیؒ کی نفیس تنبیہ: «وقد يتوهم أن هذا دليل على وجود الصانع من غير افتقار إلى إبطال التسلسل»
بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ: "تمام ممکنات کا مجموعہ تو بہرحال ممکن ہی ہوگا، پس اس کا مبدأ خارج میں واجب ہی ہوگا، تو ہمیں تسلسل باطل کرنے کی کیا ضرورت ہے؟"
علامہ تفتازانیؒ نے واضح فرمایا کہ تسلسل کا انکار کیے بغیر یہ استدلال مکمل نہیں ہو سکتا، کیونکہ اگر کوئی ملحد کہہ دے کہ "مجموعۂ ممکنات کی علت اسی مجموعے کا کوئی ماضی کا معلول ہے"، تو آپ کو یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ ممکن اپنے ہی معلولات اور اپنی ہی ذات کی علت نہیں بن سکتا اور لامتناہی زنجیر خارج میں قائم نہیں رہ سکتی۔ لہٰذا بطلانِ تسلسل ناگزیر بنیاد ہے!
برہانِ تطبیق کی انٹرایکٹو تصویری تفہیم
امام تفتازانیؒ نے تسلسل کو جس ریاضیاتی و عقلی انداز سے باطل کیا، اسے نیچے دیے گئے انٹرایکٹو ماڈل سے خود چلا کر دیکھیں۔
دونوں فرضی سلسلوں کا موازنہ
ہم نے معلولِ اخیر سے پیچھے کی طرف سلسلہ اولیٰ قائم کیا، اور اس سے ایک معلول چھوڑ کر سلسلہ ثانیہ قائم کیا۔ اب اوپر کے بٹن پر کلک کر کے ایک ایک کر کے ان کی تطبیق (Matching) شروع کریں۔
إن كان بإزاء كل واحد من الأولى واحد من الثانية
«كان الناقص كالزائد وهو محال»
اگر سلسلہ ۲ (جو کہ ۱ عدد کم ہے) کا ہر فرد سلسلہ ۱ کے برابر چلتا رہے، تو ایک کم ہونے کے باوجود وہ زیادہ کے عین برابر ہو جائے گا! یعنی (س - ۱) = س، جو کہ کھلم کھلا محال و باطل ہے۔
وإن لم يكن، فقد وجد في الأولى ما لا يوجد بإزائه شيء
«فتنقطع الثانية وتتناهى، ويلزم منه تناهي الأولى»
اور اگر کسی موڑ پر سلسلہ ۲ ختم ہو جائے، تو سلسلہ ۲ متناہی ہو گیا۔ اور چونکہ سلسلہ ۱ اس سے صرف ایک متناہی مقدار (۱ معلول) زیادہ ہے، اور متناہی میں متناہی جمع کرنے سے نتیجہ بالضرورہ متناہی ہی ہوتا ہے!
ریاضیاتی اور منطقی قاعدہ:
لہٰذا دونوں صورتوں میں لامتناہی زنجیر (تسلسل فی العلل) کا قائم رہنا عقلاً ناممکن ثابت ہوا!
پل: روایتی علم الکلام اور جدید فلسفہ و سائنس کا تقابل
قرونِ وسطیٰ کی دقیق کلامی اصطلاحات کو عصرِ حاضر کی اینالیٹک فلاسفی، کاسمولوجی، اور ریاضی کے ماڈلز میں سمجھیں
جدید مفہوم: ایسی ہستی جس کا "نہ ہونا" منطقی اور وجودی طور پر ناممکن ہو۔ وہ اپنے وجود، بقا اور صفات کے لیے کسی خارجی سبب، شرط، مادی اجزاء یا قانون کی محتاج نہیں، بلکہ ہر ممکن چیز کے وجود کا آخری تکیہ گاہ ہے۔
جدید مفہوم: ہر وہ شے جس کا نہ ہونا کوئی منطقی تضاد پیدا نہ کرے (جیسے کائنات، مادہ، توانائی، انسان، ستارے)۔ چونکہ ان کا وجود اور عدم دونوں یکساں ممکن تھے، اس لیے ان کے "ہونے" کی کوئی خارجی وجہ ہونا لازم ہے۔
(کوئی چیز بغیر کسی وجہ کے وجود میں نہیں آ سکتی کہ وہ نہ ہونے کے بجائے کیوں وجود میں آئی)
آسان ترین فہم (ترازو کی مثال):
تصور کریں ایک بالکل برابر تولنے والا ترازو ہے:
دونوں پلڑے عقل میں ۵۰٪ اور ۵۰٪ بالکل برابر ہیں۔ کیا بغیر کسی ہاتھ کے چھوئے یا وزن ڈالے (مرجح کے بغیر) کوئی ایک پلڑا خود بخود جھک سکتا ہے؟ عقل کہتی ہے: قطعی ناممکن!
جدید مفہوم: جدید فلکیات (Cosmology) نے ارسطو کے نظریہ ازلیتِ مادہ کو رد کر کے ثابت کیا کہ وقت، مکان، مادہ اور توانائی کا ایک قطعی آغاز (Big Bang ~ 13.8 ارب سال قبل) ہوا۔
جدید مفہوم: اگر ایسی علتوں کی زنجیر ہو جو خود محتاج ہوں اور محض اثر کو آگے منتقل کرتی ہوں (جیسے گھڑی کے گراریاں یا بجلی کے تار)، تو جب تک ایک خود مختار منبع (Power Source) نہ ہو، پوری زنجیر میں ذرہ برابر بھی اثر یا حرکت نہیں ہو سکتی۔
جدید مفہوم: کینٹر (Georg Cantor) نے ثابت کیا کہ ریاضی کے سیٹس میں انفینٹی کے درجات ہوتے ہیں، لیکن عظیم ریاضی دان ڈیوڈ ہلبرٹ نے واضح کیا کہ خارجی مادی دنیا میں "لامتناہی اشیاء کا بالفعل موجود ہونا" محال اور تضادات سے بھرپور ہے۔ امام تفتازانیؒ نے ٹھیک یہی نکتہ بیان فرمایا: «وهذا التطبيق إنما يمكن فيما دخل تحت الوجود دون ما هو وهمي محض»!
طلبہ کے لیے ۳ متحرک و تصویری تجربات (Interactive Demonstrations)
تسلسل، وجوب، اور برہانِ تطبیق کے منطقی مفاہیم کو روزمرہ مثالوں سے لائیو اینیمیشن کے ذریعے سمجھیں
۱. متحرک استعارہ: ٹرین کے ڈبے اور خود مختار انجن (واجب الوجود کی ضرورت)
تصور کریں: ٹرین کا ہر بوگی/ڈبہ دوسری بوگی کو کھینچتا ہے۔ لیکن کوئی بھی بوگی خود انجن نہیں ہے۔ کیا ڈبوں کی تعداد لامتناہی کر دینے سے ٹرین چل پڑے گی؟
۲. ہلبرٹ کا لامتناہی ہوٹل (Hilbert's Hotel) اور برہانِ تطبیق
ریاضی دان ڈیوڈ ہلبرٹ نے ثابت کیا کہ اگر خارجی دنیا میں بالفعل لامتناہی اشیاء مان لی جائیں تو ریاضی تباہ ہو جاتی ہے اور ناممکن تضادات پیدا ہوتے ہیں۔
۳. ڈومینو اثر اور حال (آج کے دن) تک پہنچنے کا ناممکن ہونا
اگر ماضی کے لمحے لامتناہی ہوتے، تو جیسے گرتے ہوئے ڈومینو کبھی بھی ایک لامتناہی فاصلہ طے کر کے آخری ڈومینو (آج کے دن) تک نہیں پہنچ سکتے، ویسے ہی کائنات کبھی موجودہ لمحے تک نہیں پہنچ سکتی تھی!
برہانِ تطبیق پر وارد ہونے والے دو بڑے شبہات (نقوض) اور ان کا رد
امام تفتازانیؒ نے صفحہ ۱۰۵ پر ان دو بنیادی اعتراضات کو مکمل دلائل کے ساتھ حل فرمایا
مراتبِ عدد (گنتی کے اعداد) کا نقض
اعداد امورِ وہمیہ ہیں: اعداد کا عالمِ خارج میں کوئی مادی اور حقیقی وجود نہیں ہے کہ کروڑوں اربوں اعداد بیک وقت خارج میں جمع ہو چکے ہوں۔ یہ محض ذہن کی ایک فرضی گنتی ہے، اور وہمی چیزیں جیسے ہی انسان سوچنا بند کرتا ہے وہیں منقطع ہو جاتی ہیں («فإنه ينقطع بانقطاع الوهم»)۔ جبکہ تسلسل میں دعویٰ یہ تھا کہ ماضی میں لامتناہی علتیں فی الواقع خارج میں وجود پا چکی ہیں!
معلومات اور مقدوراتِ الٰہیہ کا نقض
عدمِ تناہی کا صحیح مفہوم: معلومات اور مقدورات کے غیر متناہی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ «أنها لا تنتهي إلى حد لا يتصور فوقه آخر» یعنی وہ کسی ایسی آخری حد پر رکتے ہی نہیں جس کے اوپر مزید تصور نہ کیا جا سکے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ لامتناہی افراد بالفعل عالمِ خارج میں وجود کے اندر داخل ہو چکے ہیں! پس جب وہ خارج میں داخل ہی نہیں تو ان پر برہانِ تطبیق کا نقض قائم ہی نہیں ہوتا۔
صانعِ عالم کا ایک ہونا (توحید)
«[الواحد يعني] أن صانع العالم واحد، ولا يمكن أن يصدق مفهوم واجب الوجود، إلا على ذات واحدة.»
جب یہ ثابت ہو گیا کہ علتوں کی زنجیر ایک واجب الوجود ہستی پر ختم ہوتی ہے، تو متن کے لفظ "الواحد" کی تشریح کرتے ہوئے علامہ تفتازانیؒ نے واضح فرمایا کہ کائنات کا خالق ایک ہے، کیونکہ "واجب الوجود" کی حقیقت اور اس کے تمام کمالاتِ ذاتیہ کا بیک وقت دو ذاتوں پر صادق آنا عقلاً ناممکن ہے، ورنہ امتیاز کے لیے ان میں ترکیب یا ایک کا دوسرے کا محتاج ہونا لازم آئے گا جو وجوبِ ذاتی کے منافی ہے۔
امتحانی خود آزمائی (Student Assessment Quiz)
درس و امتحان کی تیاری کے لیے اہم ترین کلامی سوالات پر اپنی فہم کی جانچ کریں